سورۃ الرعد 13:17
یہ سورۃ الرعد کی 43 آیات میں سے آیت 17 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 1724، پارہ 13۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 251 پر ہے۔
أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَسَالَتۡ أَوۡدِيَةُۢ بِقَدَرِهَا فَٱحۡتَمَلَ ٱلسَّيۡلُ زَبَدٗا رَّابِيٗاۖ وَمِمَّا يُوقِدُونَ عَلَيۡهِ فِي ٱلنَّارِ ٱبۡتِغَآءَ حِلۡيَةٍ أَوۡ مَتَٰعٖ زَبَدٞ مِّثۡلُهُۥۚ كَذَٰلِكَ يَضۡرِبُ ٱللَّهُ ٱلۡحَقَّ وَٱلۡبَٰطِلَۚ فَأَمَّا ٱلزَّبَدُ فَيَذۡهَبُ جُفَآءٗۖ وَأَمَّا مَا يَنفَعُ ٱلنَّاسَ فَيَمۡكُثُ فِي ٱلۡأَرۡضِۚ كَذَٰلِكَ يَضۡرِبُ ٱللَّهُ ٱلۡأَمۡثَالَ
اسی نے آسمان سے پانی برسایا پھر اپنی اپنی وسعت کے مطابق نالے بہہ نکلے1 ۔ پھر پانی کے ریلے نے اوپر چڑھے جھاگ کو اٹھا لیا2، اور اس چیز میں بھی جس کو آگ میں ڈال کر تپاتے ہیں زیور یا ساز وسامان کے لئے اسی طرح کے جھاگ ہیں3، اسی طرح اللہ تعالیٰ حق وباطل کی مثال بیان فرماتا ہے4، اب جھاگ تو ناکاره ہو کر چلا جاتا ہے5 لیکن جو لوگوں کو نفع دینے والی چیز ہے وه زمین میں ٹھہری رہتی ہے6، اللہ تعالیٰ اسی طرح مثالیں بیان فرماتا ہے.7
مترجم کے حواشی (7)
- 1 بِقَدَرِهَا (وسعت کے مطابق) کا مطلب ہے نالے یعنی وادی (دو پہاڑوں کے درمیان کی جگہ) تنگ ہو تو کم پانی کشادہ ہو تو زیادہ پانی اٹھاتی ہے یعنی نزول قرآن کو جو ہدایت اور بیان کا جاع ہے بارش کے نزول سے تشبیہ دی ہے اس لیے کہ قرآن کا نفع بھی بارش کے نفع کی طرح عام ہے اور وادیوں کو تشبیہ دی ہے دلوں کے ساتھ اس لیے کہ وادیوں نالوں میں پانی جا کر ٹھہرتا ہے جس طرح قرآن قرآن کا اور ایمان مومنوں کے دلوں میں قرار پکڑتا ہے۔
- 2 اس جھاگ سے جب پانی اوپر آجاتا ہے اور جو ناکارہ ہو ختم ہو جاتا ہے اور ہوائیں جسے اڑا لے جاتی ہیں کفر مراد ہے، جو جھاگ ہی کی طرح اڑ جانے والا اور ختم ہو جانے والا ہے۔
- 3 یہ دوسری شکل ہے کہ تانبے پیتل، سیسے یا سونے چاندی کو زیور یا سامان وغیرہ بنانے کے لئے آگ میں تپایا جاتا ہے تو اس پر بھی جھاگ کی شکل میں اوپر آجاتا ہے۔ پھر یہ جھاگ دیکھتے دیکھتے ختم ہو جاتا ہے اور دھات اصلی شکل میں باقی رہ جاتی ہے۔
- 4 یعنی جب حق اور باطل کا آپس میں اجتماع اور ٹکراؤ ہوتا ہے تو باطل کو اسی طرح اثبات اور دوام نہیں ہوتا، جس طرح سیلابی ریلے کا جھاگ پانی کے ساتھ، دھاتوں کا جھاگ، جن کو آگ میں تپایا جاتا ہے دھاتوں کے ساتھ باقی نہیں رہتا بلکہ مضمحل اور ختم ہو جاتا ہے۔
- 5 یعنی اس سے کوئی نفع نہیں ہوتا، کیونکہ جھاگ پانی یا دھات کے باقی رہتا ہی نہیں بلکہ آہستہ آہستہ بیٹھ جاتا ہے یا ہوائیں اسے اڑا لے جاتی ہیں۔ باطل کی مثال بھی جھاگ ہی کی طرح ہے۔
- 6 یعنی پانی اور سونا، چاندی، تانبا، پیتل وغیرۃ یہ چیزیں باقی رہتی ہیں جن سے لوگ فائدہ اٹھاتے اور فیض یاب ہوتے ہیں، اسی طرح حق باقی رہتا ہے جس کے وجود کو بھی زوال نہیں اور جس کا نفع بھی دائمی ہے۔
- 7 یعنی بات کو سمجھانے اور ذہن نشین کرانے کے لئے مثالیں بیان فرماتا ہے، جیسے یہیں دو مثالیں بیان فرمائیں اور اسی طرح سورہ بقرہ کے آغاز میں منافقین کے لئے مثالیں بیان فرمائیں۔ اسی طرح سورہ نور، آیات 39،40 میں کافروں کے لئے دو مثالیں بیان فرمائیں۔ اور احادیث میں بھی نبی (صلى الله عليه وسلم) نے مثالوں کے ذریعے سے لوگوں کو بہت سی باتیں سمجھائیں۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے تفسیر ابن کثیر)
13:17 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 13:17
Al-Mukhtasar
17- اللہ تعالیٰ نے باطل کو پاش پاش کرنے اور حق کو باقی رکھنے کے متعلق بارش کے پانی کی مثال بیان کی ہے جو آسمان سے اترتا ہے تو اس سے ندیاں بہ پڑتی ہیں۔ ہر ندی چھوٹی ہو یا بڑی اپنے حجم کے مطابق پانی سمیٹتی ہے، پھر پانی کا ریلا خس و خاشاک اور جھاگ اپنے اوپر اٹھا لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے حق اور باطل کی ایک دوسری مثال بیان فرمائی کہ لوگ بعض عمدہ دھاتوں کو آگ میں جلاتے ہیں تاکہ انھیں پگھلائیں اور ان سے لوگوں کی زینت کی چیزیں بنائیں۔ اس کے اوپر بھی اسی طرح جھاگ آجاتا ہے، جیسے اس بارش کے پانی کے اوپر جھاگ آجاتا ہے۔ ان دونوں مثالوں سے اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کا معاملہ واضح کیا۔ باطل کی مثال یوں ہے جیسے خس و خاشاک اور پانی پر تیرنے والا جھاگ ہو اور دوسری مثال میں یوں ہے جیسے دھات کو پگھلانے پر اوپر آنے والا میل کچیل ہو۔ حق کی مثال اس صاف شفاف پانی کی ہے جسے پیا جاتا ہے اور جو پھلوں، گھاس اور نباتات کو اگاتا ہے اور دوسری اس دھات کی مثال ہے جو پگھلانے کے بعد میل کچیل سے صاف ہو جاتی ہے اور لوگ اس سے نفع حاصل کرتے ہیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں مثالیں بیان کی ہیں، وہ اسی طرح لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ حق باطل سے واضح ہو جائے۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 13
- الفاظ کی تعداد
- 42
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 251
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 251
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 252
آیت 13:17 کس سورت میں ہے؟
سورۃ الرعد. 114 میں سے سورت نمبر 13 · آیات کی تعداد: 43.
آیت 13:17 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 13.
آیت 13:17 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 251 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 251 · نسخ مصحف (612 صفحات): 252.
آیت 13:17 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 42.
آیت 13:17 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 13:17: حروف کی تعداد 180، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 13:17 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 13:17 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 1,724 ہے۔
سورۃ الرعد میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ الرعد: آیات کی تعداد 43۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 13 پر ہے۔
سورۃ الرعد مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ الرعد مدنی ہے۔
کیا آیت 13:17 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 13:17 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ الرعد کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 43 آیات اور 853 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔