مواد پر جائیں

سورۃ التوبہ 9:60 التوبة

یہ سورۃ التوبہ کی 129 آیات میں سے آیت 60 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 1295، پارہ 10۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 196 پر ہے۔

۞ إِنَّمَا ٱلصَّدَقَٰتُ لِلۡفُقَرَآءِ وَٱلۡمَسَٰكِينِ وَٱلۡعَٰمِلِينَ عَلَيۡهَا وَٱلۡمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمۡ وَفِي ٱلرِّقَابِ وَٱلۡغَٰرِمِينَ وَفِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱبۡنِ ٱلسَّبِيلِۖ فَرِيضَةٗ مِّنَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٞ

صدقے صرف فقیروں1 کے لئے ہیں اور مسکینوں کے لئے اور ان کے وصول کرنے والوں کے لئے اور ان کے لئے جن کے دل پرچائے جاتے ہوں اور گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کے لئے اور اللہ کی راه میں اور راہرو مسافروں کے لئے2، فرض ہے اللہ کی طرف سے، اور اللہ علم وحکمت واﻻ ہے۔

مترجم کے حواشی (2)
  1. 1 اس آیت میں اس طعن کا دروازہ بند کرنے کے لئے صدقات کے مستحق لوگوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ صدقات سے مراد یہاں صدقات واجبہ یعنی زکٰوۃ ہے۔ آیت کا آغاز إنَّمَا سے کیا گیا ہے جو قصر کے صیغوں میں سے ہے اور الصقات میں لام تعریف جنس کے لیے ہے یعنی صدقات کی یہ جنس (زکوٰۃ) ان آٹھ قمسوں میں مقصور ہے جن کا ذکر آیت میں ہے ان کے علاوہ کسی اور مصرف پر زکوۃ کی رقم کا استعمال صحیح نہیں۔ اہل علم کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ کیا ان آٹھوں مصارف پر تقسیم کرنا ضروری ہے؟ امام شافعی کی رائے کی رو سے زکٰوۃ کی رقم آٹھوں مصارف پر خرچ کرنا ضروری ہے۔ یا ان میں سے جس مصرف یا مصارف پر امام یا زکوۃ ادا کرنے والا مناسب سمجھے حسب ضرورت خرچ کرسکتا ہے امام شافعی وغیرہ پہلی رائے کے قائل ہیں اور امام مالک اور امام ابو حنیفہ وغیرہما دوسری رائے کے۔ اور یہ دوسری رائے ہی زیادہ صحیح ہے امام شافعی کی رائے کی رو سے زکوۃ کی رقم آٹھوں مصارف پر خرچ کرنا ضروری ہے یعنی اقتضائے ضرورت اور مصالح دیکھے بغیر رقم کے آٹھ حصے کر کے آٹھوں جگہ پر کچھ کچھ رقم خرچ کی جائے۔ جبکہ دوسری رائے کے مطابق ضرورت اور مصالح کا اعتبار ضروری ہے جس مصرف پر رقم خرچ کرنے کی زیادہ ضرورت یا مصالح کسی ایک مصرف پر خرچ کرنے کے متقتضی ہوں، تو وہاں ضرورت اور مصالح کے لحاظ سے زکوۃ کی رقم خرچ کی جائے گی چاہے دوسرے مصارف پر خرچ کرنے کے لیے رقم نہ بچے اس رائے میں جو معقولیت ہے وہ پہلی رائے میں نہیں ہے۔
  2. 2 ان مصارف ثمانیہ کی مختصر تفصیل حسب ذیل ہے۔ (ا،2) فقیر اور مسکین چونکہ قریب قریب ہیں اور ایک کا اطلاق دوسر پر بھی ہوتا ہے یعنی فقیر کو مسکین اور مسکین کو فقیر کہہ لیا جاتا ہے۔ اس لئے ان کی الگ الگ تعریف میں خاصا اختلاف ہے۔ تاہم دونوں کے مفہوم میں یہ بات تو قطعی ہے کہ جو حاجت مند ہوں اور اپنی حاجات وضروریات کو پورا کرنے کے لیے مطلوبہ رقم اور وسائل سے محروم ہوں ان کو فقیر اور مسکین کہا جاتا ہے مسکین کی تعریف میں ایک حدیث آتی ہے نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”مسکین وہ گھو منے پھر نے والا نہیں ہے جو ایک ایک یادو دو لقمے یا کھجور کے لیے گھر گھر پھرتا ہے بلکہ مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال بھی نہ ہو جو اسے بے نیاز کر دے نہ وہ ایسی مسکنت اپنے اوپر طاری رکھے کہ لوگ غریب اور مستحق سمجھ کر اس پر صدقہ کریں اور نہ خود لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرے“۔(صحیح بخاری ومسلم کتاب الزکوٰۃ) حدیث میں گویا اصل مسکین شخص مذکور کو قرار دیا گیا ہے ورنہ حضرت ابن عباس (رضي الله عنه) وغیرہ سے مسکین کی تعریف یہ منقول ہے کہ جو گداگر ہو، گھوم پھر کر اور لوگوں کے پیچھے پڑ کر مانگتا ہو اور فقیر وہ ہے جو نادار ہونے کے باوجود سوال سے بچے اور لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرے۔ (ابن کثیر) 3۔ عاملین سے مراد حکومت کے وہ اہلکار جو زکٰو ۃ و صدقات کی وصولی و تقسیم اور اس کے حساب کتاب پر معمور ہوں۔ 4۔ مولفۃ القلوب ایک تو وہ کافر ہے جو کچھ اسلام کی طرف مائل ہو اور اس کی امداد کرنے پر امید ہو کہ وہ مسلمان ہو جائے گا۔ دوسرے، وہ نو مسلم افراد ہیں جن کو اسلام پر مضبوطی سے قائم رکھنے کے لیے امداد دینے کی ضرورت ہو۔ تیسرے وہ افراد بھی ہیں جن کی امداد دینے کی صورت میں یہ امید ہو کہ وہ اپنے علاقے کے لوگوں کو مسلمانوں پر حملہ آور ہونے سے روکیں گے اور اس طرح وہ قریب کے کمزور مسلمانوں کا تحفظ کریں۔ یہ اور اس قسم کی دیگر صورتیں تالیف قلب کی ہیں جن پر زکوۃ کی رقم خرچ کی جاسکتی ہے چاہے مذکورہ افراد مال دار ہی ہوں۔ احناف کے نزدیک یہ مصرف ختم ہوگیا ہے لیکن یہ بات صحیح نہیں حالات وظروف کے مطابق ہر دور میں اس مصرف پر زکوۃ کی رقم خرچ کرنا جائز ہے۔ 5۔ گردنیں آزاد کرانے میں۔ بعض علماء نے اس سے صرف مکاتب غلام مراد لئے ہیں اور علماء نے مکاتب وغیر مکاتب ہر قسم کے غلام مراد لئے ہیں۔ امام شوکانی نے اسی رائے کو ترجیح دی ہے۔ 6۔ غارمین سے ایک تو وہ مقروض مراد ہیں جو اپنے اہل و عیال کے نان نفقہ اور ضروریات زندگی فراہم کرنے میں لوگوں کے زیر بار ہوگئے اور ان کے پاس نقد رقم بھی نہیں ہے اور ایسا سامان بھی نہیں ہے جسے بیچ کر وہ قرض ادا کریں سکیں۔ دوسرے وہ ذمہ داراصحاب ضمانت ہیں جنہوں نے کسی کی ضمانت دی اور پھر وہ اس کی ادائیگی کے ذمہ دار قرار پاگئے یا کسی فصل تباہ یا کاروبار خسارے کا شکار ہوگیا اور اس بنیاد پر وہ مقروض ہو گیا۔ ان سب افراد کی زکوۃ کی مد سے امداد کرنا جائز ہے۔ 7۔ فی سبیل اللہ سے مراد جہاد ہے یعنی جنگی سامان و ضروریات اور مجاہد (چا ہے وہ مالدار ہی ہو) پر زکٰوۃ کی رقم خرچ کرنا جائز ہے۔ اور احادیث میں آتا ہے کہ حج اور عمرہ بھی فی سبیل اللہ میں داخل ہے اسی طرح بعض علماء کے نزدیک تبلیغ ودعوت بھی فی سبیل اللہ میں داخل ہے کیونکہ اس سے بھی مقصد جہاد کی طرح اعلائے کلمۃ اللہ ہے۔ 8۔ ابن السبیل سے مراد مسافرہے۔ یعنی اگر کوئی مسافر، سفر میں مستحق امداد ہوگیا ہے چاہے وہ اپنے گھر یا وطن میں صاحب حیثیت ہی ہو، اس کی امداد زکٰو ۃ کی رقم سے کی جاسکتی ہے۔

9:60 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3

تفسیر سورۃ التوبہ
0/129
0

0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل

«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔

0

0 آج زیر التوا جواہر

آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

0:00
مشاري العفاسي التوبہ 9:60 0:00 0:00 پڑھ لیا، آگے بڑھیں

تفسیر · 9:60

Al-Mukhtasar

جب انھوں نے صدقات کی تقسیم میں رسول اکرم صلى اللہ عليہ وسلم پر ناانصافی کا الزام لگایا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو بَری کرنے کے لیے ان کے مصارف اور مستحقین کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا:

60- فرض زکاۃ کے بارے میں یہ واجب ہے کہ اسے فقراء پر خرچ کیا جائے اور فقراء سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے پاس محنت مزدوری کا مال تو ہو لیکن ان کی ضرورتیں پوری نہ ہوتی ہوں اور ان کی ظاہری صورت سے ان کے حالات جاننابھی مشکل ہو۔ دوسرا مصرف مساکین ہیں اور اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے پاس کچھ بھی نہ ہونے کے برابر ہو اور وہ اپنی حالت اور گفتگو کی وجہ سے کسی سے چھپے بھی نہ ہوں۔ تیسرا مصرف وہ لوگ ہیں جنھیں حاکمِ وقت زکاۃ و صدقات کی وصولی پر متعین کرے۔یعنی وہ اپنی اجرت اس مال میں سے لے سکتے ہیں۔ چوتھے حقدار وہ کافر ہیں جن کی تالیفِ قلب (دل جیتنا) مقصود ہو تاکہ وہ اسلام لے آئیں، یا کمزور ایمان والے مسلمان ہیں تاکہ ان کا ایمان مضبوط ہو جائے، یا جس کے شر سے بچنا مقصود ہو، اسے بھی زکاۃ دی جاسکتی ہے۔ غلاموں کی آزادی کے لیے اسے خرچ کیا جاسکتا ہے(عصر حاضر کی اصطلاح میں قیدیوں کی رہائی کے لیے) یا کسی آدمی پر جائزقرض ہو، یعنی اسراف یا گناہ کے کام کے لیے نہ لیا ہو اور وہ اسے ادا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس کا قرض زکاۃ سے ادا کر دیا جائے۔ اسی طرح اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی تیاری کے لیے زکاۃ خرچ کی جاسکتی ہے۔ اس مسافر کو بھی زکاۃ دی جاسکتی ہے جس کا ساز و سامان ختم ہو گیا ہو۔ زکاۃ کو صرف ان مصارف میں خرچ کرنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی بہتری خوب جاننے والا، اپنی تدبیر اور شریعت سازی میں کمال حکمت والا ہے۔

Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution

پارہ
10
الفاظ کی تعداد
22
مدینہ مصحف (604 صفحات)
196
انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
196
نسخ مصحف (612 صفحات)
197
آیت 9:60 کس سورت میں ہے؟

سورۃ التوبہ (التوبة). 114 میں سے سورت نمبر 9 · آیات کی تعداد: 129.

آیت 9:60 کس پارے میں ہے؟

پارہ: 10.

آیت 9:60 کس صفحے پر ہے؟

مدینہ مصحف (604 صفحات): 196 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 196 · نسخ مصحف (612 صفحات): 197.

آیت 9:60 میں کتنے الفاظ ہیں؟

الفاظ کی تعداد: 22.

آیت 9:60 میں کتنے عربی حروف ہیں؟

آیت 9:60: حروف کی تعداد 114، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔

آیت 9:60 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟

آیت 9:60 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 1,295 ہے۔

سورۃ التوبہ میں کتنی آیات ہیں؟

سورۃ التوبہ: آیات کی تعداد 129۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 9 پر ہے۔

سورۃ التوبہ مکی ہے یا مدنی؟

سورۃ التوبہ مدنی ہے۔

کیا آیت 9:60 سنی جا سکتی ہے؟

جی ہاں۔ آیت 9:60 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔

سورۃ التوبہ کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟

شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 129 آیات اور 2,498 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play