مواد پر جائیں

سورۃ البقرہ 2:143 البقرة

یہ سورۃ البقرہ کی 286 آیات میں سے آیت 143 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 150، پارہ 2۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 22 پر ہے۔

وَكَذَٰلِكَ جَعَلۡنَٰكُمۡ أُمَّةٗ وَسَطٗا لِّتَكُونُواْ شُهَدَآءَ عَلَى ٱلنَّاسِ وَيَكُونَ ٱلرَّسُولُ عَلَيۡكُمۡ شَهِيدٗاۗ وَمَا جَعَلۡنَا ٱلۡقِبۡلَةَ ٱلَّتِي كُنتَ عَلَيۡهَآ إِلَّا لِنَعۡلَمَ مَن يَتَّبِعُ ٱلرَّسُولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلَىٰ عَقِبَيۡهِۚ وَإِن كَانَتۡ لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى ٱلَّذِينَ هَدَى ٱللَّهُۗ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَٰنَكُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِٱلنَّاسِ لَرَءُوفٞ رَّحِيمٞ

ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا ہے1 تاکہ تم لوگوں پر گواه ہوجاؤ اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) تم پر گواه ہوجائیں، جس قبلہ پر تم پہلے سے تھے اسے ہم نے صرف اس لئے مقرر کیا تھا کہ ہم جان لیں کہ رسول کا سچا تابعدار کون ہے اور کون ہے جو اپنی ایڑیوں کے بل پلٹ جاتا ہے2 گو یہ کام مشکل ہے، مگر جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے (ان پر کوئی مشکل نہیں) اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان ضائع نہ کرے گا3 اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ شفقت اور مہربانی کرنے واﻻ ہے

مترجم کے حواشی (3)
  1. 1 «وَسَطٌ» کے لغوی معنی تو درمیان کے ہیں، لیکن یہ بہتر اور افضل کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، یہاں اسی معنی میں اس کا استعمال ہوا ہے،یعنی جس طرح تمہیں سب سے بہتر قبلہ عطاکیاگیا ہے، اسی طرح تمہیں سب سے افضل امت بھی بنایا گیا ہے اور مقصد اس کا یہ ہے کہ تم لوگوں پر گواہی دو۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ہے «لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ» (سورۂ الحج۔78) ”رسول تم پر اور تم لوگوں پر گواہ ہو۔“ اس کی وضاحت بعض احادیث میں اس طرح آتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ پیغمبروں سے قیامت والے دن پوچھے گا کہ تم نے میرا پیغام لوگوں تک پہنچایا تھا؟ وہ اثبات میں جواب دیں گے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا، تمہارا کوئی گواہ ہے؟ وہ کہیں گے ہاں محمد (صلى الله عليه وسلم) اور ان کی امت، چنانچہ یہ امت گواہی دے گی۔ اس لئے اس کا ترجمہ عادل بھی کیا گیا ہے۔ (ابن کثیر) ایک معنی وسط کے اعتدال کے بھی کئے گئے ہیں۔ یعنی امت معتدل یعنی افراط وتفریط سے پاک۔ یہ اسلام کی تعلیمات کے اعتبار سے ہے کہ اس میں اعتدال ہے، افراط وتفریط نہیں۔
  2. 2 یہ تحویل قبلہ کی ایک غرض بیان کی گئی ہے، مومنین صادقین تو رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کے اشارۂ ابرو کے منتظر رہا کرتے تھے، اس لئے ان کے تو ادھر سے ادھر پھر جانا کوئی مشکل معاملہ نہ تھا بلکہ ایک مقام پر تو عین نماز کی حالت میں جب کہ وہ رکوع میں تھے یہ حکم پہنچا تو انہوں نے رکوع ہی میں اپنا رخ خانہ کعبہ کی طرف پھیر لیا۔ یہ مسجد قبلتین (یعنی وہ مسجد جس میں ایک نماز دو قبلوں کی طرف رخ کرکے پڑھی گئی) کہلاتی ہے اور ایسا ہی واقعہ مسجد قبا میں بھی ہوا۔ «لِنَعْلَمَ» ”تاکہ ہم جان لیں“ اللہ کو تو پہلے بھی علم تھا، اس کا مطلب ہے تاکہ ہم اہل یقین کو اہل شک سے علیحدہ کردیں تاکہ لوگوں کے سامنےبھی دونوں قسم کے لوگ واضح ہوجائیں (فتح القدیر)
  3. 3 بعض صحابہ (رضي الله عنهم) کے ذہن میں یہ اشکال پیدا ہوا کہ جو صحابہ (رضي الله عنهم) بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے کے زمانے میں فوت ہوچکے تھے، یا ہم جتنے عرصے اس طرف رخ کرکے نماز پڑھتے رہے ہیں یہ ضائع ہوگئیں،یا شاید ان کا ثواب نہیں ملے گا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ نمازیں ضائع نہیں ہوں گی، تمہیں پورا ثواب ملے گا۔ یہاں نماز کو ایمان سے تعبیر کرکے یہ بھی واضح کردیا کہ نماز کے بغیر ایمان کی کوئی حیثیت نہیں۔ ایمان تب ہی معتبر ہے جب نماز اور دیگر احکام الٰہی کی پابندی ہوگی۔

2:143 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3

تفسیر سورۃ البقرہ
0/286
0

0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل

«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔

0

0 آج زیر التوا جواہر

آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

0:00
مشاري العفاسي البقرہ 2:143 0:00 0:00 پڑھ لیا، آگے بڑھیں

تفسیر · 2:143

Al-Mukhtasar

143- اے مومنو! جس طرح ہم نے تمھیں اپنا پسندیدہ قبلہ عطا کیا، اسی طرح تمام امتوں میں تمھیں افضل، بہتر، انصاف پسند اور عقائد، عبادات اور معاملات میں متوسط و معتدل امت بھی بنایا تاکہ تم روز قیامت اللہ کے رسولوں کے حق میں گواہی دو کہ انھوں نے اپنی اپنی قوم کو دین کی تبلیغ کی تھی اور محمد رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم تمھارے بارے میں گواہی دیں کہ انھوں نے بھی تم تک دین پہنچا دیا تھا۔ (اے نبی!) آپ کو پہلے قبلے بیت المقدس سے ہٹانے کا ہمارا مقصد اس بات کا عملی مظہر دیکھنا تھا کہ کون اللہ کی شریعت کو رضا و رغبت کے ساتھ قبول کر کے رسول اکرم صلى اللہ عليہ وسلم کی اتباع کرتا ہے اور کون خواہشات کا پجاری بن کر اپنے دین سے پھر جاتا ہے اور اللہ کے شرعی حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتا؟ پہلے قبلے کو چھوڑ کر دوسرے قبلے کی طرف رخ کرنا خاصا مشکل کام ہے لیکن جنھیں اللہ نے سچا ایمان نصیب کیا ہے، ان کے لیے کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ کے اپنے بندوں کے لیے فیصلے کمال حکمت پر مبنی ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمھارے ایمان کو، جس میں تمھاری وہ نمازیں بھی شامل ہیں جو تم نے تحویلِ قبلہ سے پہلے ادا کیں، ضائع نہیں کرے گا کیونکہ اللہ اپنے بندوں پر بڑا شفیق اور مہربان ہے۔ وہ انھیں مشقت میں ڈالتا ہے نہ ان کے اعمال کا ثواب ضائع کرے گا۔

Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution

پارہ
2
الفاظ کی تعداد
45
مدینہ مصحف (604 صفحات)
22
انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
22
نسخ مصحف (612 صفحات)
23
آیت 2:143 کس سورت میں ہے؟

سورۃ البقرہ (البقرة). 114 میں سے سورت نمبر 2 · آیات کی تعداد: 286.

آیت 2:143 کس پارے میں ہے؟

پارہ: 2.

آیت 2:143 کس صفحے پر ہے؟

مدینہ مصحف (604 صفحات): 22 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 22 · نسخ مصحف (612 صفحات): 23.

آیت 2:143 میں کتنے الفاظ ہیں؟

الفاظ کی تعداد: 45.

آیت 2:143 میں کتنے عربی حروف ہیں؟

آیت 2:143: حروف کی تعداد 194، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔

آیت 2:143 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟

آیت 2:143 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 150 ہے۔

سورۃ البقرہ میں کتنی آیات ہیں؟

سورۃ البقرہ: آیات کی تعداد 286۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 2 پر ہے۔

سورۃ البقرہ مکی ہے یا مدنی؟

سورۃ البقرہ مدنی ہے۔

کیا آیت 2:143 سنی جا سکتی ہے؟

جی ہاں۔ آیت 2:143 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔

سورۃ البقرہ کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟

شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 286 آیات اور 6,116 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play