مواد پر جائیں

سورۃ البقرہ 2:275 البقرة

یہ سورۃ البقرہ کی 286 آیات میں سے آیت 275 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 282، پارہ 3۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 47 پر ہے۔

ٱلَّذِينَ يَأۡكُلُونَ ٱلرِّبَوٰاْ لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ ٱلَّذِي يَتَخَبَّطُهُ ٱلشَّيۡطَٰنُ مِنَ ٱلۡمَسِّۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَالُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡبَيۡعُ مِثۡلُ ٱلرِّبَوٰاْۗ وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ فَمَن جَآءَهُۥ مَوۡعِظَةٞ مِّن رَّبِّهِۦ فَٱنتَهَىٰ فَلَهُۥ مَا سَلَفَ وَأَمۡرُهُۥٓ إِلَى ٱللَّهِۖ وَمَنۡ عَادَ فَأُوْلَٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ

سود خور1 لوگ نہ کھڑے ہوں گے مگر اسی طرح جس طرح وہ کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان چھو کر خبطی بنا دے2 یہ اس لئے کہ یہ کہا کرتے تھے کہ تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے3، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام، جو شخص اپنے پاس آئی ہوئی اللہ تعالیٰ کی نصیحت سن کر رک گیا اس کے لئے وہ ہے جو گزرا4 اور اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہے5، اور جو پھر دوبارہ ﴿حرام کی طرف﴾ لوٹا، وہ جہنمی ہے، ایسے لوگ ہمیشہ ہی اس میں رہیں گے۔

مترجم کے حواشی (5)
  1. 1 رِبَا کے لغوی معنی زیادتی اور اضافے کے ہیں۔ اور شریعت میں اس کا اطلاق "رِبَا الْفَضْلِاوررِبَا النَّسِيئَةِ" پر ہوتا ہے۔ "رِبَا الْفَضْلِ"، اس سود کو کہتے ہیں جو چھ اشیا میں کمی بیشی یا نقد وادھار کی وجہ سے ہوتا ہے (جس کی تفصیل حدیث میں ہے، مثلاً گندم کا تبادلہ گندم سے کرنا ہے تو فرمایا گیا ہے کہ ایک تو برابر برابر ہو۔ دوسرے يَدًا بِيَدٍ( ہاتھوں ہاتھ) ہو۔ اس میں کمی بیشی ہوگی تب بھی اور ہاتھوں ہاتھ ہونے کی بجائے، ایک نقد اور دوسرا ادھار یا دونوں ہی ادھار ہوں، تب بھی سود ہے) "رِبَا النَّسِيئَةِ" کا مطلب ہے کسی کو (مثلاً) 6 مہینے کے لئے اس شرط پر سو روپے دینا، کہ واپسی 125 روپے ہوگی۔ 25روپے 6 مہینے کی مہلت کے لئے جائیں حضرت علی (رضي الله عنه) کی طرف منسوب قول میں اسے اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ "كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَةً فَهُوَ رِبًا" (فيض القدير شرح الجامع الصغير، ج 5، ص 28 ) ”قرض پر لیا گیا نفع سود ہے“، یہ قرضہ ذاتی ضرورت کے لئے لیا گیا ہو یا کاروبار کے لئے دونوں قسم کے قرضوں پر لیا گیا سود حرام ہے اور زمانۂ جاہلیت میں بھی دونوں قسم کے قرضوں کا رواج تھا۔ شریعت نے بغیر کسی قسم کی تفریق کے دونوں کو مطلقاً حرام قرار دیا ہے۔ اس لئے بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ تجارتی قرضہ (جو عام طور پر بنک سے لیا جاتا ہے) اس پر اضافہ، سود نہیں ہے۔ اس لئے کہ قرض لینے والا اس سے فائدہ اٹھاتا ہے جس کا کچھ حصہ وہ بنک کو یا قرض دہندہ کو لوٹا دیتا ہے تو اس میں کیا قباحت ہے؟ اس کی قباحت ان متجددین کو نظر نہیں آتی جو اس کو جائز قرار دینا چاہتے ہیں، ورنہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں تو اس میں بڑی قباحتیں ہیں۔ مثلاً قرض لے کر کاروبار کرنے والے کا منافع تو یقینی نہیں ہے۔ بلکہ، منافع تو کجا اصل رقم کی حفاظت کی بھی ضمانت نہیں ہے۔ بعض دفعہ کاروبار میں ساری رقم ہی ڈوب جاتی ہے۔ جب کہ اس کے برعکس قرض دہندہ (چاہے وہ بنک ہو یا کوئی ساہوکار) کا منافع متعین ہے جس کی ادائیگی ہر صورت میں لازمی ہے۔ یہ ظلم کی ایک واضح صورت ہے جسے شریعت اسلامیہ کس طرح جائز قرار دے سکتی ہے؟ علاوہ ازیں شریعت تو اہل ایمان کو معاشرے کے ضرورت مندوں پر بغیر کسی دنیوی غرض ومنفعت کے خرچ کرنے کی ترغیب دیتی ہے، جس سے معاشرے میں اخوت، بھائی چارے، ہمدردی، تعاون اور شفقت و محبت کے جذبات فروغ پاتے ہیں۔ اس کے برعکس سودی نظام سے سنگ دلی اور خود غرضی کو فروغ ملتا ہے۔ ایک سرمائے دار کو اپنے سرمائے کے نفع سے غرض ہوتی ہے چاہے معاشرے میں ضرورت مند، بیماری، بھوک، افلاس سے کراہ رہے ہوں یا بےروزگار اپنی زندگی سے بیزار ہوں۔ شریعت اس شقاوت سنگ دلی کو کس طرح پسند کرسکتی ہے؟ اس کے اور بہت سے نقصانات ہیں، تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں۔ بہرحال سود مطلقاً حرام ہے چاہے ذاتی ضرورت کے لئے لئے گئے قرضے کا سود ہو یا تجارتی قرضے پر۔
  2. 2 سود خور کی یہ کیفیت قبر سے اٹھتے وقت یا میدان محشر میں ہوگی۔
  3. 3 حالانکہ تجارت میں تو نقد رقم اور کسی چیز کا آپس میں تبادلہ ہوتا ہے۔ دوسرے اس میں نفع نقصان کا امکان رہتا ہے، جب کہ سود میں یہ دونوں چیزیں مفقود ہیں، علاوہ ازیں بیع کو اللہ نے حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔ پھر یہ دونوں ایک کس طرح قبول ہوسکتے ہیں؟
  4. 4 قبول ایمان یا توبہ کے بعد پچھلے سود پر گرفت نہیں ہوگی۔
  5. 5 کہ وہ توبہ پر ثابت قدم رکھتا ہو یا سؤ عمل اور فسادنیت کی وجہ سے اسے حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے۔ اسی لئے اس کے بعد دوبارہ سود لینے والے کے لئے وعید ہے۔

2:275 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3

تفسیر سورۃ البقرہ
0/286
0

0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل

«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔

0

0 آج زیر التوا جواہر

آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

0:00
مشاري العفاسي البقرہ 2:275 0:00 0:00 پڑھ لیا، آگے بڑھیں

تفسیر · 2:275

Al-Mukhtasar

جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو باہمی تعاون اور ایک دوسرے کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے اپنی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب دی تو اس کے متضاد پہلو سے ڈرایا بھی ہے اور وہ ہے سود، چنانچہ فرمایا:

275- جو لوگ سودی لین دین کرتے اور سود کھاتے ہیں، وہ قیامت کے دن اپنی قبروں سے ایسے اٹھیں گے جیسے وہ شخص اٹھتا ہے جسے شیطان نے چھو کر دیوانہ کر دیا ہو۔ وہ اپنی قبر سے ایسے گرتے پڑتے اٹھے گا جیسے دورہ پڑنے والا شخص کبھی گرتا اور کبھی اٹھتا ہے۔ اس کی و جہ ان کا سود کھانے کو حلال سمجھنا ہے اور انھوں نے سود اور اللہ تعالیٰ کی حلال کی ہوئی خرید و فروخت میں فرق نہیں کیا اور کہا کہ تجارت بھی تو سود کی طرح ہے۔ وہ حلال ہے تو یہ بھی حلال ہے۔ ہر ایک سے مال بڑھتا اور ترقی پاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے ان کے قیاس کو باطل اور انھیں جھوٹا قرار دیا اور وضاحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے تجارت کو اس لیے حلال قرار دیا ہے کہ اس میں ہر عام و خاص کے لیے فائدہ ہے اور سود کو اس لیے حرام قرار دیا ہے کہ اس میں ظلم ہے اور لوگوں کا مال بغیر کسی عوض کے باطل طریقے سے کھانا ہے، چنانچہ جس کے پاس اس کے رب کی طرف سے سود سے روکنے اور اس سے ڈرانے کی نصیحت آئی اور وہ باز آگیا اور اس نے اس سے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کر لی تو جو سود وہ پہلے لے چکا ہے، اس پر اسے کوئی گناہ نہیں ہو گا اور اس کے بعد اس کے مستقبل کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ جس نے اللہ کی طرف سے منع کا حکم پہنچنے کے بعد بھی سود لیا جبکہ اس پر حجت قائم ہو چکی ہو تو وہ جہنم کی آگ میں داخل ہونے اور اس میں ہمیشہ رہنے کا مستحق ہے۔ جہنم میں ہمیشہ رہنے کا سبب یہ ہے کہ وہ سود حلال سمجھ کر لیتا تھا (تب وہ کافر ہو جائے گا) یا اس سے مقصود لمبے عرصے تک رہنا ہے۔ کیونکہ ایسی ہمیشگی جس کے بعد نکلنا محال ہو، وہ صرف کافروں کے لیے ہے۔ توحید والے اس میں ہمیشہ نہیں رہیں گے۔

Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution

پارہ
3
الفاظ کی تعداد
45
مدینہ مصحف (604 صفحات)
47
انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
47
نسخ مصحف (612 صفحات)
48
آیت 2:275 کس سورت میں ہے؟

سورۃ البقرہ (البقرة). 114 میں سے سورت نمبر 2 · آیات کی تعداد: 286.

آیت 2:275 کس پارے میں ہے؟

پارہ: 3.

آیت 2:275 کس صفحے پر ہے؟

مدینہ مصحف (604 صفحات): 47 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 47 · نسخ مصحف (612 صفحات): 48.

آیت 2:275 میں کتنے الفاظ ہیں؟

الفاظ کی تعداد: 45.

آیت 2:275 میں کتنے عربی حروف ہیں؟

آیت 2:275: حروف کی تعداد 186، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔

آیت 2:275 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟

آیت 2:275 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 282 ہے۔

سورۃ البقرہ میں کتنی آیات ہیں؟

سورۃ البقرہ: آیات کی تعداد 286۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 2 پر ہے۔

سورۃ البقرہ مکی ہے یا مدنی؟

سورۃ البقرہ مدنی ہے۔

کیا آیت 2:275 سنی جا سکتی ہے؟

جی ہاں۔ آیت 2:275 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔

سورۃ البقرہ کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟

شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 286 آیات اور 6,116 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play