سورۃ المائدہ 5:3 المائدة
یہ سورۃ المائدہ کی 120 آیات میں سے آیت 3 ہے، قرآن مجید کی 6236 آیات میں سے آیت نمبر 672، پارہ 6۔ مدینہ مصحف (604 صفحات) میں یہ صفحہ 107 پر ہے۔
حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ ٱلۡمَيۡتَةُ وَٱلدَّمُ وَلَحۡمُ ٱلۡخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ لِغَيۡرِ ٱللَّهِ بِهِۦ وَٱلۡمُنۡخَنِقَةُ وَٱلۡمَوۡقُوذَةُ وَٱلۡمُتَرَدِّيَةُ وَٱلنَّطِيحَةُ وَمَآ أَكَلَ ٱلسَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيۡتُمۡ وَمَا ذُبِحَ عَلَى ٱلنُّصُبِ وَأَن تَسۡتَقۡسِمُواْ بِٱلۡأَزۡلَٰمِۚ ذَٰلِكُمۡ فِسۡقٌۗ ٱلۡيَوۡمَ يَئِسَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِن دِينِكُمۡ فَلَا تَخۡشَوۡهُمۡ وَٱخۡشَوۡنِۚ ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَٰمَ دِينٗاۚ فَمَنِ ٱضۡطُرَّ فِي مَخۡمَصَةٍ غَيۡرَ مُتَجَانِفٖ لِّإِثۡمٖ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ
تم پر حرام کیا گیا مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور جس پر اللہ کے سوا دوسرے کا نام پکارا گیا ہو1 اور جو گلا گھٹنے سے مرا ہو2 اور جو کسی ضرب سے مر گیا ہو3 اور جو اونچی جگہ سے گر کر مرا ہو4 اور جو کسی کے سینگ مارنے سے مرا ہو5 اور جسے درندوں نے پھاڑ کھایا ہو6 لیکن اسے تم ذبح کر ڈالو تو حرام نہیں7 اور جو آستانوں پر ذبح کیا گیا ہو8 اور یہ بھی کہ قرعہ کے تیروں کے ذریعے فال گیری کرو9 یہ سب بدترین گناه ہیں، آج کفار تمہارے دین سے ناامید ہوگئے، خبردار! تم ان سے نہ ڈرنا اور مجھ سے ڈرتے رہنا، آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔ پس جو شخص شدت کی بھوک میں بے قرار ہو جائے بشرطیکہ کسی گناه کی طرف اس کا میلان نہ ہو تو یقیناً اللہ تعالیٰ معاف کرنے واﻻ اور بہت بڑا مہربان ہے۔10
مترجم کے حواشی (10)
- 1 یہاں سے ان محرمات کا ذکر شروع ہورہا ہے جن کا حوالہ سورت کے آغاز میں دیا گیا ہے۔ آیت کا اتنا حصہ سورۂ بقرہ میں گزرچکا ہے۔ (دیکھیےآیت نمبر 173)
- 2 گلا کوئی شخص گھونٹ دے یا کسی چیز میں پھنس کر خود گلا گھٹ جائے۔ دونوں صورتوں میں مردہ جانور حرام ہے۔
- 3 کسی نے پتھر، لاٹھی یا کوئی اور چیز ماری جس سے وہ بغیر ذبح کئے مر گیا۔ زمانۂ جاہلیت میں ایسے جانوروں کو کھا لیا جاتا تھا۔ شریعت نے منع کردیا۔ بندوق کا شکار: بندوق کا شکار کئے ہوئے جانور کے بارے میں علماء کے درمیان اختلاف ہے۔ امام شوکانی نے ایک حدیث سے استدلال کرتے ہوئے بندوق کے شکار کو حلال قرار دیا ہے۔ (فتح القدیر) یعنی اگر بسم اللہ پڑھ کر گولی چلائی گئی اور شکار ذبح سے پہلے ہی مر گیا تو اس کا کھانا اس قول کے مطابق حلال ہے۔
- 4 چاہے خود گرا ہو یا کسی نے پہاڑ وغیرہ سے دھکا دے کر گرایا ہو۔
- 5 ”نَطِيحَةٌ“، ”مَنْطُوحَةٌ“ کے معنی میں ہے۔ یعنی کسی نے اسے ٹکر مار دی اور بغیر ذبح کئے وہ مر گیا۔
- 6 یعنی شیر، چیتا اور بھیڑیا وغیرہ جسے ذو ناب (کچلیوں سے شکار کرنے والے درندوں میں سے کسی نے) اسے کھایا ہو اور وہ مر گیا ہو۔ زمانۂ جاہلیت میں مرجانے کے باوجود ایسے جانور کو کھا لیا جاتا تھا۔
- 7 جمہور مفسرین کے نزدیک یہ استثنا تمام مذکورہ جانوروں کے لئے ہے یعنی مُنْخَنِقَةٌ، مَوْقُوذَةٌ، مُتَرَدِّيَةٌ، نَطِيحَةٌ اور درندوں کا کھایا ہوا، اگر تم انہیں اس حال میں پالو کہ ان میں زندگی کے آثار موجود ہوں اور پھر تم انہیں شرعی طریقے سے ذبح کرلو تو تمہارے لئے ان کا کھانا حلال ہوگا۔ زندگی کی علامت یہ ہے کہ ذبح کرتے وقت جانور پھڑکے اور ٹانگیں مارے۔ اگر چھری پھیرتے وقت یہ اضطراب و حرکت نہ ہو تو سمجھ لو یہ مردہ ہے۔ ذبح کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ بسم اللہ پڑھ کر تیز دھار آلے سے اس کا گلا اس طرح کاٹا جائے کہ رگیں کٹ جائیں۔ ذبح کے علاوہ نحر بھی مشروع ہے۔ جس کا طریقہ یہ ہے کہ کھڑے جانور کے لبے پر چھری ماری جائے (اونٹ کو نحر کیا جاتا ہے) جس سے نرخرہ اور خون کی خاص رگیں کٹ جاتی ہیں اور سارا خون بہہ جاتا ہے۔
- 8 مشرکین اپنے بتوں کے قریب پتھر یا کوئی چیز نصب کرکے ایک خاص جگہ، بناتے تھے۔ جسے نصب (تھان یا آستانہ) کہتے تھے۔ اسی پر وہ بتوں کے نام نذر کئے گئے جانوروں کو ذبح کرتے تھے یعنی یہ ”وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ“ ہی کی ایک شکل تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ آستانوں، مقبروں اور درگاہوں پر، جہاں لوگ طلب حاجات کے لئے جاتے ہیں اور وہاں مدفون افراد کی خوشنودی کے لئے جانور (مرغا، بکرا وغیرہ) ذبح کرتے ہیں، یا پکی ہوئی دیگیں تقسیم کرتے ہیں، ان کا کھانا حرام ہے یہ ”وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ“ میں داخل ہیں۔
- 9 ”وَأَنْ تَسْتَقْسِمُوا بِالأَزْلامِ“ کے دو معنی کئے گئے ہیں ایک تیروں کے ذریعے تقسیم کرنا دوسرے، تیروں کے ذریعہ قسمت معلوم کرنا، پہلے معنی کی بنا پر کہا جاتا ہے کہ جوئے وغیرہ میں ذبح شدہ جانور کی تقسیم کے لئے یہ تیر ہوتے تھے جس میں کسی کو کچھ مل جاتا، کوئی محروم رہ جاتا۔ دوسرے، معنی کی رو سے کہا گیا ہے کہ ازلام سے مراد تیر ہیں جن سے وہ کسی کام کا آغاز کرتے وقت فال لیا کرتے تھے۔ انہوں نے تین قسم کے تیر بنا رکھے تھے۔ ایک افْعَلْ ( کر) دوسرے میں لا تَفْعَلْ (نہ کر) اور تیسرے میں کچھ نہیں ہوتا تھا۔ افْعَلْ والا تیر نکل آتا تو وہ کام کرلیا جاتا، لا تَفْعَلْ والا نکلتا تو نہ کرتے اور تیسرا تیر نکل آتا تو پھر دوبارہ فال نکالتے۔ یہ بھی گویا کہانت اور ”اسْتِمْدَادٌ بِغَيْرِ اللهِ“ کی شکل ہے، اس لئے اسے بھی حرام کردیا گیا استقسام کے معنی طلب قسمت ہیں۔ یعنی تیروں سے قسمت طلب کرتے تھے۔
- 10 یہ بھوک کی اضطراری کیفیت میں مذکورہ محرمات کے کھانے کی اجازت ہے بشرطیکہ مقصد اللہ کی نافرمانی اور حد سے تجاوز کرنا نہ ہو، صرف جان بچانا مطلوب ہو۔
5:3 · ترجمہ: Muhammad Junagarhi · QuranEnc.com · v1.1.3
مطالعے کی ترتیبات
نمایاں کرنا
متن کا سائز
دکھائیں
پڑھائی کی پیش رفت
پڑھائی کی پیش رفت مٹا دی گئی
0
0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل
«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔
0
0 آج زیر التوا جواہر
آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔
تفسیر · 5:3
Al-Mukhtasar
3- اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے وہ جانور حرام کر دیا ہے جو ذبح کیے بغیر مر جائے۔ اسی طرح بہایا ہوا خون، خنزیر کا گوشت ، وہ جانور جس پر ذبح کے وقت غیراللہ کا نام پکارا گیا ہو، جو گلا گھٹنے سے مرا ہو، جو کسی چوٹ لگنے سے مر جائے، جو کسی اونچی جگہ سے گر کر مرا ہو، جو کسی دوسرے جانور کے سینگ مارنے سے مرا ہو اور جسے شیر، چیتے اور بھیڑیے جیسے درندے نے پھاڑ کھایا ہو، سب تم پر حرام ہیں۔ ہاں، ان مذکورہ جانوروں میں سے جسے تم زندہ حالت میں پاؤ اور پھر ذبح کر لو تو وہ تمھارے لیے حلال ہے۔ تم پر وہ جانور بھی حرام ہے جسے بتوں کی خاطر ذبح کیا جائے۔ تمھاری جس قسمت کو غیب کے پردوں میں چھپا کر رکھا گیا ہے، اسے تیروں کے ذریعے سے تلاش کرنا بھی تمھارے اوپر حرام ہے۔ اس سے مراد وہ تیر اور پتھر ہیں جن میں ایک پر لکھا ہوتا: اِفْعَل (یہ کام کر) اور دوسرے پر لکھا ہوتا: لَاتَفْعَل (یہ کام نہ کر)۔ جو بھی تیر یا پتھر نکلتا، اس کے مطابق عمل کیا جاتا۔ مذکورہ بالا محرمات کا ارتکاب اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے دائرے سے نکلنا ہے۔ آج کافر اس بات سے مایوس ہو چکے ہیں کہ تم دین اسلام چھوڑ کر ارتداد کی راہ اختیار کرو گے کیونکہ انھیں اسلام کی قوت کا اندازہ ہو چکا ہے، لہٰذا ان سے نہ ڈرو اور مجھ اکیلے سے ڈرو۔ آج میں نے تمھارے لیے تمھارا دین جو اسلام ہے، مکمل کر دیا ہے اور اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں تم پر پوری کر دی ہیں اور تمھارے لیے اسلام کو بطور دین چنا ہے، لہٰذا اس کے علاوہ میں کوئی دین قبول نہیں کروں گا۔ جو کوئی شدید بھوک کے باعث مردار کھانے پر مجبور ہوگیا جبکہ اس کا میلان اور جھکاؤ گناہ کی طرف نہ ہو تو اسے مردار کھانے کا گناہ نہیں ہوگا۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
Al-Mukhtasar fi Tafsir al-Quran al-Karim - Dar Al-Mukhtasar for Publishing and Distribution
- پارہ
- 6
- الفاظ کی تعداد
- 61
- مدینہ مصحف (604 صفحات)
- 107
- انڈو پاک مصحف (610 صفحات)
- 107
- نسخ مصحف (612 صفحات)
- 108
آیت 5:3 کس سورت میں ہے؟
سورۃ المائدہ (المائدة). 114 میں سے سورت نمبر 5 · آیات کی تعداد: 120.
آیت 5:3 کس پارے میں ہے؟
پارہ: 6.
آیت 5:3 کس صفحے پر ہے؟
مدینہ مصحف (604 صفحات): 107 · انڈو پاک مصحف (610 صفحات): 107 · نسخ مصحف (612 صفحات): 108.
آیت 5:3 میں کتنے الفاظ ہیں؟
الفاظ کی تعداد: 61.
آیت 5:3 میں کتنے عربی حروف ہیں؟
آیت 5:3: حروف کی تعداد 276، جو اسی عثمانی متن سے شمار کی گئی ہے جو یہ سائٹ دکھاتی ہے، اعراب کے بغیر۔
آیت 5:3 قرآن مجید میں کہاں آتی ہے؟
آیت 5:3 قرآن مجید کی 6,236 آیات میں سے آیت نمبر 672 ہے۔
سورۃ المائدہ میں کتنی آیات ہیں؟
سورۃ المائدہ: آیات کی تعداد 120۔ یہ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں نمبر 5 پر ہے۔
سورۃ المائدہ مکی ہے یا مدنی؟
سورۃ المائدہ مدنی ہے۔
کیا آیت 5:3 سنی جا سکتی ہے؟
جی ہاں۔ آیت 5:3 یہاں 43 قاریوں میں سے کسی کی بھی تلاوت میں سنی جا سکتی ہے، مفت اور بغیر رجسٹریشن۔
سورۃ المائدہ کے لیے کون سا عربی متن استعمال ہوتا ہے؟
شاہ فہد کمپلیکس کا عثمانی حفص متن، کمپلیکس کے اپنے خط KFGQPC Uthmanic Hafs V22 میں۔ اس صفحے کا ہر عدد، بشمول 120 آیات اور 2,804 الفاظ، اسی متن سے تیار ہوتا ہے۔