مواد پر جائیں

المنافقون المنافقون · Khalifa al-Tunaiji

Khalifa al-Tunaiji کی آواز میں آیات: 11 حفص عن عاصم مرتل

ترجمہ: Muhammad Junagarhi

سورت پڑھیں

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

  1. إِذَا جَآءَكَ ٱلۡمُنَٰفِقُونَ قَالُواْ نَشۡهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُۥ وَٱللَّهُ يَشۡهَدُ إِنَّ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ لَكَٰذِبُونَ

    تیرے پاس جب منافق آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم اس بات کے گواه ہیں کہ بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں1 ، اور اللہ جانتا ہے کہ یقیناً آپ اس کے رسول ہیں2۔ اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق قطعاً جھوٹے ہیں.3

    مترجم کے حواشی (3)
    1. 1 منافقین سے مراد عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی ہیں۔ یہ جب نبی (صلى الله عليه وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوتے تو قسمیں کھا کھا کر کہتے کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔
    2. 2 یہ جملہ معترضہ ہے جو مضمون ماقبل کی تاکید کے لیے ہے جس کا اظہار منافقین بطور منافق کے کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تو ویسے ہی زبان سے کہتے ہیں، ان کے دل اس یقین سے خالی ہیں، لیکن ہم جانتے ہیں کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) واقعی اللہ کے رسول ہیں۔
    3. 3 اس بات میں کہ وہ دل سے آپ (صلى الله عليه وسلم) کی رسالت کی گواہی دیتے ہیں۔ یعنی دل سے گواہی نہیں دیتے صرف زبان سے دھوکہ دینے کے لیے اظہار کرتے ہیں۔
  2. ٱتَّخَذُوٓاْ أَيۡمَٰنَهُمۡ جُنَّةٗ فَصَدُّواْ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۚ إِنَّهُمۡ سَآءَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ

    انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے1 پس اللہ کی راه سے رک گئے2 بیشک برا ہے وه کام جو یہ کر رہے ہیں.

    مترجم کے حواشی (2)
    1. 1 یعنی وہ جو قسم کھا کر کہتے ہیں کہ وہ تمہاری طرح مسلمان ہیں اور یہ کہ محمد (صلى الله عليه وسلم) اللہ کے رسول ہیں، انہوں نے اپنی اس قسم کو ڈھال بنا رکھا ہے اس کے ذریعے سے وہ تم سے بچے رہتے ہیں اور کافروں کی طرح یہ تمہاری تلواروں کی زد میں نہیں آتے۔
    2. 2 دوسرا ترجمہ ہے کہ انہوں نے شک وشبہات پیدا کرکے لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکا۔
  3. ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ ءَامَنُواْ ثُمَّ كَفَرُواْ فَطُبِعَ عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ فَهُمۡ لَا يَفۡقَهُونَ

    یہ اس سبب سے ہے کہ یہ ایمان ﻻکر پھر کافر ہوگئے1 پس ان کے دلوں پر مہر کر دی گئی۔ اب یہ نہیں سمجھتے.

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 اس سے معلوم ہوا کہ منافقین بھی صریح کافر ہیں۔
  4. ۞ وَإِذَا رَأَيۡتَهُمۡ تُعۡجِبُكَ أَجۡسَامُهُمۡۖ وَإِن يَقُولُواْ تَسۡمَعۡ لِقَوۡلِهِمۡۖ كَأَنَّهُمۡ خُشُبٞ مُّسَنَّدَةٞۖ يَحۡسَبُونَ كُلَّ صَيۡحَةٍ عَلَيۡهِمۡۚ هُمُ ٱلۡعَدُوُّ فَٱحۡذَرۡهُمۡۚ قَٰتَلَهُمُ ٱللَّهُۖ أَنَّىٰ يُؤۡفَكُونَ

    جب آپ انہیں دیکھ لیں تو ان کے جسم آپ کو خوشنما معلوم ہوں1 ، یہ جب باتیں کرنے لگیں تو آپ ان کی باتوں پر (اپنا) کان لگائیں2، گویا کہ یہ لکڑیاں ہیں دیوار کے سہارے سے لگائی ہوئیں3، ہر (سخت) آواز کو اپنے خلاف سمجھتے ہیں4۔ یہی حقیقی دشمن ہیں ان سے بچو اللہ انہیں غارت کرے کہاں سے پھرے جاتے ہیں.

    مترجم کے حواشی (4)
    1. 1 یعنی ان کے حسن وجمال اور رونق وشادابی کی وجہ سے۔
    2. 2 یعنی زبان کی فصاحت وبلاغت کی وجہ سے۔
    3. 3 یعنی اپنی درازئی قد اور حسن ورعنائی، عدم فہم اور قلت خیر میں ایسے ہیں گویا کہ دیوار پر لگائی ہوئی لکڑیاں ہیں جو دیکھنے والوں کو تو بھلی لگتی ہیں لیکن کسی کو فائدہ نہیں پہنچا سکتیں۔ یا یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے اور مطلب ہے کہ یہ رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کی مجلس میں اس طرح بیٹھتے ہیں جیسے دیوار کے ساتھ لگی ہوئی لکڑیاں ہیں جو کسی بات کو سمجھتی ہیں نہ جانتی ہیں۔ (فتح القدیر)
    4. 4 یعنی بزدل ایسے ہیں کہ کوئی زور دار آواز سن لیں تو سمجھتے ہیں کہ ہم پر کوئی آفت نازل ہوگئی ہے۔ یا گھبرا اٹھتے ہیں کہ ہمارے خلاف کسی کاروائی کا آغاز تو نہیں ہورہا ہے۔ جیسے چور اور خائن کا دل اندر سے دھک دھک کر رہا ہوتا ہے۔
  5. وَإِذَا قِيلَ لَهُمۡ تَعَالَوۡاْ يَسۡتَغۡفِرۡ لَكُمۡ رَسُولُ ٱللَّهِ لَوَّوۡاْ رُءُوسَهُمۡ وَرَأَيۡتَهُمۡ يَصُدُّونَ وَهُم مُّسۡتَكۡبِرُونَ

    اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ تمہارے لیے اللہ کے رسول استغفار کریں تو اپنے سر مٹکاتے ہیں1 اور آپ دیکھیں گے کہ وه تکبر کرتے ہوئے رک جاتے ہیں.2

    مترجم کے حواشی (2)
    1. 1 یعنی استغفار سے اعراض کرتے ہوئے اپنے سروں کو موڑ لیتے ہیں۔
    2. 2 یعنی کہنے والے کی بات سے منہ موڑ لیں گے یا رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) سے اعراض کر لیں گے۔
  6. سَوَآءٌ عَلَيۡهِمۡ أَسۡتَغۡفَرۡتَ لَهُمۡ أَمۡ لَمۡ تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ لَن يَغۡفِرَ ٱللَّهُ لَهُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡفَٰسِقِينَ

    ان کے حق میں آپ کا استغفار کرنا اور نہ کرنا دونوں برابر ہے1 ۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہر گز نہ بخشے گا2۔ بیشک اللہ تعالیٰ (ایسے) نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا.

    مترجم کے حواشی (2)
    1. 1 اپنے نفاق پر اصرار اور کفر پر استمرار کی وجہ سے وہ ایسے مقام پر پہنچ گئے جہاں استغفار اور عدم استغفار ان کے حق میں برابر ہے۔
    2. 2 اگر اسی حالت نفاق میں وہ مر گئے۔ ہاں اگر وہ زندگی میں کفر ونفاق سے تائب ہو جائیں تو بات اور ہے، پھر ان کی مغفرت ممکن ہے۔
  7. هُمُ ٱلَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنفِقُواْ عَلَىٰ مَنۡ عِندَ رَسُولِ ٱللَّهِ حَتَّىٰ يَنفَضُّواْۗ وَلِلَّهِ خَزَآئِنُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَلَٰكِنَّ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ لَا يَفۡقَهُونَ

    یہی وه ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول اللہ کے پاس ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو یہاں تک کہ وه ادھر ادھر ہو جائیں1 اور آسمان وزمین کے کل خزانے اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں2 لیکن یہ منافق بے سمجھ ہیں.3

    مترجم کے حواشی (3)
    1. 1 ایک غزوے میں (جسے اہل سیر غزوۂ مریسیع یا غزوۂ بنی المصطلق کہتے ہیں) ایک مہاجر اور ایک انصاری کا جھگڑا ہوگیا، دونوں نے اپنی اپنی حمایت کے لیے انصار اور مہاجرین کو پکارا، جس پر عبداللہ بن ابی (منافق) نے انصار سے کہا کہ تم نے مہاجرین کی مدد کی اور اور ان کو اپنے ساتھ رکھا، اب دیکھ لو، اس کا نتیجہ سامنے آرہا ہے یعنی یہ اب تمہارا کھا کر تمہیں پر غرا رہے ہیں۔ ان کا علاج تو یہ ہے کہ ان پر خرچ کرنا بند کر دو، یہ اپنے آپ تتر بتر ہو جائیں گے۔ نیز اس نے یہ بھی کہا کہ ہم (جو عزت والے ہیں) ان ذلیلوں (مہاجروں) کو مدینے سے نکال دیں گے۔ حضرت زید بن ارقم (رضي الله عنه) نے یہ کلمات خبیثہ سن لیے اور انہوں نے رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کو آکر بتلایا، آپ (صلى الله عليه وسلم) نے عبداللہ بن ابی کو بلا کر پوچھا تو اس نے صاف انکار کر دیا۔ جس پر حضرت زید بن ارقم (رضي الله عنه) ، کو سخت ملال ہوا، اللہ تعالیٰ نے حضرت زید بن ارقم (رضي الله عنه) ، کی صداقت کے اظہار کے لیے سورۂ منافقون نازل فرما دی، جس میں ابن ابی کے کردار کو پوری طرح طشت ازبام کر دیا گیا۔ (صحيح البخاري، تفسير سورة المنافقين)۔
    2. 2 مطلب یہ ہے کہ مہاجرین کا رازق اللہ تعالیٰ ہے اس لیے کہ رزق کے خزانے اسی کے پاس ہیں، وہ جس کو جتنا چاہے دے اور جس سے چاہے روک لے۔
    3. 3 منافق اس حقیقت کو نہیں جانتے، اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ انصار اگر مہاجرین کی طرف دست تعاون دراز نہ کریں تو وہ بھوکے مر جائیں گے۔
  8. يَقُولُونَ لَئِن رَّجَعۡنَآ إِلَى ٱلۡمَدِينَةِ لَيُخۡرِجَنَّ ٱلۡأَعَزُّ مِنۡهَا ٱلۡأَذَلَّۚ وَلِلَّهِ ٱلۡعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِۦ وَلِلۡمُؤۡمِنِينَ وَلَٰكِنَّ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ لَا يَعۡلَمُونَ

    یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم اب لوٹ کر مدینہ جائیں گے تو عزت واﻻ وہاں سے ذلت والے کو نکال دے گا1 ۔ سنو! عزت تو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اور اس کے رسول کے لیے اور ایمان داروں کے لیے ہے2 لیکن یہ منافق جانتے نہیں.3

    مترجم کے حواشی (3)
    1. 1 اس کا کہنے والا رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی تھا، عزت والے سے اس کی مراد تھی، وہ خود اور اس کے رفقاء اور ذلت والے سے (نعوذباللہ) رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) اور مسلمان۔
    2. 2 یعنی عزت اور غلبہ صرف ایک اللہ کے لیے ہے اور پھر وہ اپنی طرف سے جس کو چاہے عزت وغلبہ عطا فرما دے۔ چنانچہ وہ اپنے رسولوں اور ان پر ایمان لانے والوں کو عزت اور سرفرازیاں عطا فرماتا ہے نہ کہ ان کو جو اس کے نافرمان ہوں۔ یہ منافقین کے قول کی تردید فرمائی کہ عزتوں کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے اور معزز بھی وہی ہے جسے وہ معزز سمجھے، نہ کہ وہ جو اپنے آپ کو معزز یا اہل دنیا جس کو معزز سمجھیں اور اللہ کے ہاں معزز صرف اور صرف اہل ایمان ہوں گے، کافر اور اہل نفاق نہیں۔
    3. 3 اس لیے ایسے کام نہیں کرتے جو ان کے لیے مفید ہیں اور ان چیزوں سے نہیں بچتے جو ان کے لیے نقصان دہ ہیں۔
  9. يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تُلۡهِكُمۡ أَمۡوَٰلُكُمۡ وَلَآ أَوۡلَٰدُكُمۡ عَن ذِكۡرِ ٱللَّهِۚ وَمَن يَفۡعَلۡ ذَٰلِكَ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡخَٰسِرُونَ

    اے مسلمانو! تمہارے مال اور تمہاری اوﻻد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کر دیں1 ۔ اور جو ایسا کریں وه بڑے ہی زیاں کار لوگ ہیں.

    مترجم کے حواشی (1)
    1. 1 یعنی مال اور اولاد کی محبت تم پر اتنی غالب نہ آجائے کہ تم اللہ کے بتلائے ہوئے احکام وفرائض سے غافل ہو جاؤ اور اللہ کی قائم کردہ حلال وحرام کی حدوں کی پروا نہ کرو۔ منافقین کے ذکر کے فوراً بعد اس تنبیہ کا مقصد یہ ہے کہ یہ منافقین کا کردار ہے جو انسان کو خسارے میں ڈالنے والا ہے۔ اہل ایمان کا کرداراس کے برعکس ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ ہر وقت اللہ کو یاد رکھتے ہیں، یعنی اس کے احکام وفرائض کی پابندی اور حلال وحرام کے درمیان تمیز کرتے ہیں۔
  10. وَأَنفِقُواْ مِن مَّا رَزَقۡنَٰكُم مِّن قَبۡلِ أَن يَأۡتِيَ أَحَدَكُمُ ٱلۡمَوۡتُ فَيَقُولَ رَبِّ لَوۡلَآ أَخَّرۡتَنِيٓ إِلَىٰٓ أَجَلٖ قَرِيبٖ فَأَصَّدَّقَ وَأَكُن مِّنَ ٱلصَّٰلِحِينَ

    اور جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے (ہماری راه میں) اس سے پہلے خرچ کرو کہ تم میں سے کسی کو موت آ جائے تو کہنے لگے اے میرے پروردگار! مجھے تو تھوڑی دیر کی مہلت کیوں نہیں1 دیتا؟ کہ میں صدقہ کروں اور نیک لوگوں میں سے ہو جاؤں.2

    مترجم کے حواشی (2)
    1. 1 خرچ کرنے سے مراد زکٰوۃ کی ادائیگی اور دیگر امور خیر میں خرچ کرنا ہے۔
    2. 2 اس سے معلوم ہوا کہ زکٰوۃ کی ادائیگی اور انفاق فی سبیل اللہ میں اور اسی طرح اگر حج کی استطاعت ہو تو اس کی ادائیگی میں قطعاً تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ اس لیے کہ موت کا کوئی پتہ نہیں کس وقت آجائے؟ اور یہ فرائض اس کے ذمے رہ جائیں کیونکہ موت کے وقت آرزو کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
  11. وَلَن يُؤَخِّرَ ٱللَّهُ نَفۡسًا إِذَا جَآءَ أَجَلُهَاۚ وَٱللَّهُ خَبِيرُۢ بِمَا تَعۡمَلُونَ

    اور جب کسی کا مقرره وقت آجاتا ہے پھر اسے اللہ تعالیٰ ہر گز مہلت نہیں دیتا اور جو کچھ تم کرتے ہو اس سے اللہ تعالیٰ بخوبی باخبر ہے.

0/11
0

0 حسنات آج · 0 اس ڈیوائس پر کل

«جس نے اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھا، اسے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔» جامع ترمذی 2910. ایپ کے حروف کے اصول سے شمار؛ یہ ایک گنتی ہے، وعدہ نہیں۔

0

0 آج زیر التوا جواہر

آپ کی قرأت سے تخمینہ، ایپ کی روزانہ حد کے مطابق۔ جواہر Quran Habit ایپ میں کمائے اور وصول کیے جاتے ہیں۔

0:00
خليفة الطنيجي المنافقون 63:1 0:00 0:00

Khalifa al-Tunaiji کی مزید سورتیں

دوسرے قاری

قرآن لفظ بہ لفظ اور روزانہ تلاوت کی عادت ایک مفت ایپ میں۔

App Store سے ڈاؤن لوڈ کریںGet it on Google Play